معظم لہ کے کلام میں قیام عاشورا کے آثار ونتائج
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
makarem news

معظم لہ کے کلام میں قیام عاشورا کے آثار ونتائج

آج کی دنیا میں جبکہ بے رحم ظالم اور ستمگر ، مظلوم مسلمانوں کا خون بہانے کے لئے کھڑے ہوگئے ہیں تو مظلوم قوموں کو انقلاب عاشورا سے سبق حاصل کرتے ہوئے کھڑے ہوجانا چاہئے اور دنیا سے ان کے شر کو ختم کردینا چاہئے ۔

makarem news

حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت نے دنیا کے آزاد منش لوگوں کے لئے ایسے مکتب کی بنیاد رکھی جس میں موت اور شہادت کے مسئلہ کو ایک سادہ امر بلکہ افتخار آمیز مسئلہ بنا دیا (١) کیونکہ قیام عاشورا نے خدا کے دین کو زندہ کرنے کے علاوہ اسلام کی ترقی میں بہت زیادہ مدد کی اور اس واقعہ سے امت اسلامی بیدار ہوگئی اور اس نے مسلمانوں میں شجاعت اور شہادت طلبی کی روح پھونک دی ،انسانیت کو فداکاری اورایثار کا درس دیا اور خلافت بنی امیہ کو اس واقعہ سے خطرات لاحق ہوگئے اور اسی واقعہ کی وجہ سے خونی انقلاب قائم ہوئے جن کی وجہ سے بہت ہی مختصر مدت میں آل ابوسفیان کی خلافت کا تختہ پلٹ گیا(٢) ۔لہذا اس مقالہ میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے قیمتی آراء و نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے قیام عاشورا کے اہم ترین آثار اور نتائج کو مخاطبین کے سامنے پیش کرتے ہیں :

حق گرائی کے معیار پر اسلام محمدی کو زندہ کرنا

اس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ یزیدی لوگ واقعہ عاشورا کے بعد اپنی خیالی کامیابی میں مست اور مغرور ہوگئے ! اور وہ خیال کرتے تھے کہ امام حسین علیہ السلام کو قتل کرکے اور ان کے خاندان کو اسیر بنا کر وہ کامیاب ہوگئے ہیں اور انہوں نے خاندان پیغمبر میں مقاومت کی آخری کڑی کو ختم کردیا ، لہذا انہوں نے اپنی خام خیالی کامیابی کو ظاہر کرنے کیلئے اور اپنی مستی اور خوشحالی کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایسے جاہلانہ اور احمقانہ کام انجام دئیے کہ ا ن کی بہت جلد ختم ہوجانے والی خوشحالی ،مصیبت ا ور ماتم میں تبدیل ہوگئی (٣) ۔

کوفہ اور دمشق جیسے شہر میں آئینہ بندی ،کرنا  خوشی کی محفلیں قائم کرنا ، ناچ گانہ اور شراب پینا ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اولاد کے پیروں میں زنجیر باندھنا اور ان کو شہر بہ شہر گھومانا، بے گناہ بچوں کے تازیانے مارنا ، شہداء کے سروں کو نیزوں پر چڑھانا اور امام علیہ السلام کے لبوں پر خیزران کی لکڑی مارنا ، ایسے کام تھے جس سے انہوں نے اسیروں کی تحقیر کی (٤) ۔

 لیکن امام حسین علیہ السلام اور ان کے پاک و پاکیزہ اصحاب نے مکتب محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زندہ کرنے میں مدد کی اور اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے خون نے اسلام کے درخت کی آبیاری کی جس کی وجہ سے امت اسلامی کی ترقی اور مسلمانوں میں بیداری کی رمق آگئی (٥) ۔

اسی طرح یہ بھی کہنا چاہئے کہ قیام عاشورا نے صرف پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے آئین ہی کو نجات نہیں دلائی بلکہ تمام انبیائے الہی کی رسالت کے اہداف کو بچا لیا جیسا کہ رسول اکرم (ص) نے فرمایا ہے : '' حسین منی و انا من حسین '' ۔ حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں (٦) ۔

قیام عاشورا کے سایہ میں حریت اور آزادگی

اگر چہ ظاہری طور پر کربلا میں ٦١ ہجری کے عاشورکو جنگ کا نتیجہ باطل محاذ کے حصہ میں پہنچا ، لیکن امام حسین علیہ السلام کے خون نے مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے آزاد لوگوں کے لئے ایک مکتب کی بنیاد رکھ دی تاکہ جب تک تاریخ باقی ہے (٧) اس وقت تک دنیا میں حق حاصل کرنے والے آزاد رہبروں کے انقلاب کے لئے نمونہ عمل کے طور پر باقی رہے (٨) اوراس کی مثال ایران کی کامیابی کو بیان کیا جاسکتا ہے جنہوں نے ٢٥٠٠ سالہ استبدادی نظام کی جڑیں اکھاڑ کر پھینک دی اور آٹھ سال تک باطل کے خلاف لڑتے رہے اور پھر کامیابی ایران ہی کو ملی ، اسی طرح حزب اللہ لبنان کے رشید جوانوں نے اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر اسرائیل کی مسلح فوج کے دانت کھٹے کردئیے (٩) ۔

حسینی انقلاب نے واقعہ عاشورا کے بعد خونی انقلاب کو قائم کرنے کیلئے راستہ فراہم کردیا

اس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ کربلا کی خبروں نے مسلمانوں کے درمیان عجیب و غریب تاثیر ڈال دی ، امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب وانصار کی مظلومیت اور ان کے خاندان کو بہت ہی قساوت القلب کے ساتھ اسیر کرنے کی وجہ سے بنی امیہ کے ظلم سب پر آشکار ہوگئے اور تمام مسلمان خلافت اموی سے نفرت کرنے لگے (١٠) ۔

انہوں نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کو شہید کرنے کا جو طریقہ اپنایا تھا وہاں پر موجود ہزاروں لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آشکار ہوگیا لہذا امام حسین علیہ السلام اور ان کے مختصر اصحاب کی فریاد ''ھیھات منا الذلة'' کے نعروں نے مسلمانوں کو بہت زیادہ جرائت اور جسارت عطا کی اور اسی کی وجہ سے مدینہ کے لوگوں کا قیام، توابین اور مختار کا قیام وجود میں آیا (١١) ۔

قیام توابین

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد کوفہ کے شیعہ سب سے زیادہ اپنے آپ کو ملامت کے مستحق سمجھتے تھے اور فرزند رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصرت نہ کرنے کی وجہ سے گناہ اور شرمندگی کا احساس کرتے تھے ۔ ان لوگوں نے اپنی غلطی کی تلافی کے لئے انقلاب اور شورش بپا کرنے کی ٹھان لی تاکہ اپنے دامن سے ذلت کے اس داغ کو دھو سکیں (١٢) ۔ لہذا سلیمان بن صرد خزاعی نے اس گروہ کے رہبر کے عنوان سے کہا : پیغمبر اکرم (ص) کا فرزند اور لخت جگر ہمارے درمیان قتل ہوگیا ،انہوں نے ہمیں مدد کے لئے بلایا لیکن ہم نے ان کی مدد نہیں کی ، فاسقوں نے ان کو اپنے تیر و تبر کا نشانہ بنایا ، لیکن ہم نے کوئی کام انجام نہیں دیا (١٣) ۔اس وجہ سے سلیمان نے لوگوں کو قیام کے لئے آمادہ کیا (١٤) ۔ لیکن انہوں نے حقیقت میں قتل کرکے اور قتل ہو کر اس عذاب سے اپنے آپ کو نجات دلائی جو ان کی روح و جان پر سنگینی کر رہا تھا اور اس طرح اپنے گناہوں کو دھو دیا ، یہی وجہ تھی کہ اسی زمانہ میں مختار بھی حکومت کے خلاف قیام کرنے اور جنگ کرنے کیلئے فوج بنا رہے تھے ،لیکن اس کے باوجود سلیمان کی مدد کرنے کیلئے تیار نہیں ہوئے ، وہ کہتے تھے : سلیمان ، اس قیام کے ذریعہ اپنے آپ اور اپنے اصحاب کو قتل کرانا چاہتے ہیں (١٥) (١٦) ۔

قیام توابین میں ان لوگوں نے اپنی جان کی بازی لگائی جنہوں نے کوفہ میں ابن زیاد کی دھمکی کے بعد مسلم بن عقیل کو اکیلا چھوڑ دیا تھا اور شہر کو دشمن کے حوالہ کردیا تھا ، لیکن واقعہ عاشورا کے بعد ان میں اس قدر طاقت آگئی تھی کہ انہوں نے اپنی جان پر کھیل کر انقلاب قایم کیا اور قتل ہوگئے (١٧) ۔ اس طرح قیام توابین کے راہنمائوں کے قتل ہوجانے کی وجہ سے یہ انقلاب کامیاب نہ ہوسکا اور کچھ دنوں کے لئے انقلاب کی آگ ٹھنڈی ہوگئی (١٨) ۔

قیام مختار

''مختار '' کے ظہور سے ایک عظیم طوفان کھڑا ہوگیا اور امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینے کے نعرہ نے ان کے چاہنے والوں کو ایک جگہ جمع کردیا اور انہوں نے اموی خرمن اور کربلا کے جرائم پیشہ قاتلوں کو ایک ایک کرکے جلا دیا (١٩) ۔ اور بہت مختصر وقت میں زخموں پر مرحم رکھ دیا ، قاتلان کربلا سے انتقام کی آگ (٢٠) اس قدر شدید تھی کہ مختصر عرصہ میں کربلا کے جرائم پیشہ افراد کو نیست و نابود کردیا ، جنہوں نے جیسا جرم انجام دیا تھا ان کو اسی طرح کی بہت شدید سزا دیدی گئی (٢١) ۔ لہذا یہ کہنا ضروری ہے کہ قیام مختار کا اصلی مقصد امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینا تھا اور مختار نے اس ہدف کو بہت اچھی طرح پورا کیا (٢٢) ۔

قیام عاشورا کے بعد بنی امیہ کا زوال

امام حسین علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کے بعد بنی امیہ کے خلاف خونی قیام اور انقلابوں نے امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینے کی لئے شدت اختیار کرلی اور جھوٹے بنی امیہ کے چہرہ سے نقاب اتار دی اور ان کی حکومت کے ناجائز ہونے کو ثابت کردیا (٢٤) ۔ یہاں تک کہ بنی عباس نے بھی امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینے کی غرض سے آل ابوسفیان پر کاری ضرب لگائی اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہوئے مرکب خلافت پر سوار ہوگئے (٢٥) ۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود بنی امیہ کاقلع قمع کرنے میں ان کی کامیابی کا راز بھی امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینا تھا کیونکہ انہوں نے اس نعرہ کے ذریعہ لوگوں کو بنی امیہ کے خلاف بھڑکایا اور آخرکار بنی امیہ کی ذلت آمیز حکومت کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا (٢٦) ۔

آخری بات

اختتام پر یہ بات بھی ضروری ہے کہ عاشورا اور کربلا ، زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک حادثہ کی صورت سے نکل کر ایک مکتب میں تبدیل ہوگیا ،ایسا مکتب جس میں انسانوں کی تربیت کی جاتی ہے (٢٧) ۔

قیام امام حسین علیہ السلام نے صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے بہت سے مفکرین نے آپ کے اس قیام کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور اس کو مظلوموں کی نجات کیلئے نمونہ عمل قرار دیا ہے ، وہ لوگ آپ کے مکتب کو ظلم ستیزی اور عزت و شرافت کی زندگی کا مکتب قرار دیتے ہیں (٢٨) ۔ ہمیں امید ہے کہ آج کی دنیا میں جبکہ بے رحم ظالم اور ستمگر ، مظلوم مسلمانوں کا خون بہانے کے لئے تلے ہوئے ہیں تو مظلوم قوموں کو انقلاب عاشورا سے سبق حاصل کرتے ہوئے کھڑے ہوجانا چاہئے اور دنیا سے ان کے شر کو ختم کردینا چاہئے ۔

حوالہ جات:

١ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٦٥٦۔

٢ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٣ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٦٥٧ ۔

٤ ۔  گزشتہ حوالہ ،صفحہ ٦٥٨ ۔

٥ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٦ ۔  بحارالانوار ، جلد ٤٣ ، صفحہ ٢٦١ ۔ یہ حدیث اہل سنت کی مختلف کتابوں میں ذکر ہوئی ہے ، منجملہ : مستدرک حاکم ، جلد ٣ ،صفحہ ١٧٧ ۔ معجم الکبیر طبرانی ، جلد ٢٢ ، صفحہ ٢٧٤ ۔ کنز العمال ، جلد ١٢ ، صفحہ ١١٥ ۔

٧ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٦٦١ ۔

٨ ۔  گزشتہ حوالہ ،صفحہ ٦٦٣ ۔

٩ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٦٦٤ ۔

١٠ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٦٦٥ ۔

١١ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١٢ ۔  گزشہ حوالہ ، صفحہ ٦٦٨ ۔

١٣ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٦٦٩ ۔

١٤ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٦٧٠ ۔

١٥ ۔  کامل ابن اثیر ، جلد ٤ ، صفحہ ١٦٣ ۔

١٦ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٦٧٣ ۔

١٧ ۔   گزشتہ حوالہ ۔

١٨ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١٩ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٦٧٣ ۔

٢٠ ۔  قاتلان شہدای کربلا ۔

٢١ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٦٨١ ۔

٢٢ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٢٣ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٦٨٥ ۔

٢٤ ۔   گزشتہ حوالہ ۔

٢٥ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٢٦ ۔  گزشتہ حوالہ ،صفحہ ٦٨٦ ۔

٢٧ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٦٩١ ۔

٢٨ ۔  گزشتہ حوالہ ،صفحہ ٦٩٢ ۔

٢٩ ۔  گزشتہ حوالہ ۔


تاریخ انتشار: « 2017/9/28 »

منسلک صفحات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیانیہ : امریکہ کا خطرناک منصوبہ اور اس کے ا تحادیوں کی رسوائی

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کا داعش کے فتنہ کے متعلق بیان

شیعہ تحقیقی مرکز (برلین ۔ جرمن کے ایک ہزار سالہ قدیمی مکتب) کے نام حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا پیغام

معظم لہ کے کلام میں قیام عاشورا کے آثار ونتائج

امام محمد باقر علیہ السلام کے علمی مکتب کی تعلیمات کا پس منظر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کی نظر میں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1202